رائے پور 27 اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) چھتیس گڑھ کے نکسل متاثرہ بیجاپور ضلع میں سیکورٹی فورسز نے چھ خواتین نکسلی سمیت آٹھ نکسلیوں کو مار گرایا ہے۔ ریاست کے خصوصی پولیس ڈائریکٹر جنرل ڈی ایم اوستھی نے آج یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ بیجاپور ضلع کے المیڑی پولیس تھا حلقہ میں پڑوسی ریاست تلنگانہ کی گریہاؤنڈ پولیس اور چھتیس گڑھ پولیس کے مشترکہ ٹیم نے آٹھ نکسلیوں کو مار گرایا ہے ۔نکسلیوں کے خلاف اس بڑی کارروائی میں چھ خواتین نکسلی بھی ماری گئی ہیں ۔اوستھی نے بتایا کہ پولیس کو المیڑی علاقے میں نکسلیوں کی سرگرمیوں کی رپورٹ کی گئی تھی ۔ اطلاع کے بعد اس ماہ کے 23 تاریخ کو تلنگانہ کے گر یہاؤنڈ پولیس اور چھتیس گڑھ کے ایس ٹی ایف کی مشترکہ ٹیم کو گشت کرنے کے لئے روانہ کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ اور تلنگانہ کے اس سرحدی پہاڑی علاقہ میں جب آج پولیس ٹیم گشت پر تھی تب نکسلیوں نے پولیس ٹیم پر فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے بعد پولیس ٹیم نے بھی جوابی کارروائی کی۔ تقریبا دو گھنٹے کے تصادم کے بعد نکسلی وہاں سے فرار ہو گئے تھے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ تصادم کے بعد جب پولیس ٹیم نے علاقہ میں سرچ آپریشن چلایاتو جائے حادثہ سے آٹھ نکسلیوں کی لاش، ایک رائفل، ایک 303 بور کی رائفل، 12 بور کی چار بندوقیں کے علاوہ کئی اسلحہ جات برآمد کئے ۔ انہوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ پر بھاری مقدار میں خون کے نشانات پائے گئے ہیں جس سے اس واقعہ میں کچھ اور نکسلیوں کے ہلاک ہونے کا امکان ہے جنہیں ان کے ساتھی اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب رہے۔ اوستھی نے بتایا کہ اس تصادم میں سیکورٹی فورس کے کسی بھی نوجوان کے زخمی ہونے کی ابھی تک کوئی معلومات نہیں ہے۔ نکسلیوں کی لاشوں کو بھارتی فضائیہ کے طیارے سے بیجاپور لایا گیا ہے اور ان کی شناخت کرائی جا رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس تصادم میں مارے گئے نکسلی ضلع کے اسور اور باساگڑا علاقے سے ہو سکتے ہیں۔ ماؤنوازوں کے لاشوں کی شناخت ہونے کے بعد اس بارے میں معلومات مل سکے گی کہ وہ کس پارٹی میں کام کر رہے تھے ۔